زندگی کے مختلف زاویے

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: معاملات زندگی

زندگی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک نعمت ہے اور اسے احسن طریقے سے بسر کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ زندگی ایک بار ہی ملتی ہے لہذا اس کی قدر کرنا اور اسے بامقصد انداز سے بسر کرنا نہایت ضروری ہے۔ اپنی زندگی کی بنیاد سچائی پر رکھیئے اور اسے محبت، دیانت اور محنت جیسے اوصاف سے مزین کیجئے آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے۔بچپن میں ایک شعر پڑھا تھا۔

؎ زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے، ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

اس وقت یہ بات بہت عجیب سی محسوس ہوئی تھی، کیونکہ نہ تو شاعری کی اتنی سوجھ بوجھ تھی اور نہ ہی سیاق و سباق کا اندازہ۔ اس وقت تو ہمارے نزدیک زندگی پتنگیں اڑانے، کھیلنے کودنے اور موج مستی کا نام تھا۔ اب عمر کے اس حصے میں ایک شعر بہت یاد آتا ہے۔
؎ لے لے شباب یا رب دے دے ادھار بچپن
بلکہ عمر کے لحاظ سے یوں کہیں تو بہتر ہو گا۔ لے لے بڑھاپا۔۔۔۔۔لیکن یہ تو صرف دیوانے کے خواب تک محدود ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

زندگی کو ہر کوئی اپنے زاویے سے دیکھتا ہے۔ کسی کے لیے زندگی ایک نغمہ ہے، کوئی اسے پھول سے تشبیہ دیتا ہے، کوئی اسے طوفان کہتا ہے۔ غرضیکہ ہر شخص اپنے حالات و واقعات کے مطابق زندگی کو مختلف نام دیتا ہے۔زندگی کو چاہے آپ کچھ بھی کہہ لیں یہ آپ کی زندگی ہے اور جیسے بھی ہو یہ آپ کو ہی گزارنی ہے۔

کسی دانشور کا قول ہے کہ” زندگی کے تمام رستے سیدھے نہیں ہوتے”۔ یہ بات درست ہے کہ آپ کی زندگی کبھی بھی ایک ڈگر پر رواں دواں نہیں رہتی بلکہ اس میں اونچ نیچ، کبھی خوشی کبھی غم آتے رہتے ہیں۔ زندگی کے مختلف موسموں سے نبرد آزما ہونے کو ہی جینے کا ڈھنگ کہا جاتا ہے۔

زندگی کو آپ جس نگاہ سے دیکھنا چاہیں دیکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ آپ کے خیالات، رویے اور سوچ پر منحصر ہے۔آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ آپکی زیادہ تر پریشانیاں آپکی اپنی پیدا کی ہوئی ہوتی ہیں۔ اگر آپ کسی امتحان میں کامیاب نہیں ہوتے تو ضرور اس کے پیچھے آپکی اپنی کسی کوتاہی کا ہاتھ ہو گا۔

یہ عام انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں اور پریشانیوں کا موجب کسی دوسرے شخص یا حالات کو ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔اصل میں یہ کمزور شخصیت کی نشانی ہوتی ہے۔ مضبوط اور اعلیٰ اوصاف کے مالک لوگ اپنی ناکامیوں کا ہمیشہ خود تجزیہ کرتے ہیں اور پھر وجہ تلاش کرنے کے بعد اپنی کمزوریوں پر قابو پا لیتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو زندگی کے ہر میداان میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

اگر آپ ایک خوش و خرم زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اپنی خواہشات اور ضروریات میں فرق کرنا سیکھیں۔ یہی بے لگام خواہشات کے گھوڑے آپ کے سکون کو برباد کر دیتے ہیں۔ اگر زندگی میں آپ نے ان کو قابو میں نہ کیا تو آپ کبھی بھی سکون اور خوشی سے نہیں رہ سکتے۔ صبر و شکر کی عادت آپکو بہت سی ایسی پریشانیوں سے نہ صرف نجات دلا دے گی بلکہ آخرت میں بھی سرخرو کر دے گی۔
 

Wisdom

Popular Posts

٭ گھریلو بچت کے خارآمد ظریقے


٭ گھریلو بچت کے خارآمد ظریقے